Posts
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ ---------------- (Hazrat Khawaja Qutbuddin Bakhtiar Kaki (may Allah have mercy on him
- Get link
- X
- Other Apps
جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نے ایک وصیت کی تھی۔ میں اس مجمعے تک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا چھاگیا۔ وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہواس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔ اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔ اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔ جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخر کار ایک شخص روتے ہوئے حضرت خواجہ قطب...
ادب و احترام کی لازوال مثالیں -------------------- (Endless examples of literature and respect)
- Get link
- X
- Other Apps
ایک ڈاکٹر تھے۔ اکثر ایسا ھوتا کہ وہ نسخے پر ڈسپنسر کے لئے لکھتے کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔ اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لئیے؟ تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ھے۔ کہ جس کا نام ابوبکر ھو، عمر ھو، عثمان ھو، علی ھو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ھو تو میں اس سے پیسے لوں۔ ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدینؓ، امہات المومنینؓ اور بنات رسولﷺ کے ھم نام لوگوں سے پیسے نہ لیئے۔ یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔ امام احمد بن حنبل نہر پر وضو فرما رھے تھے کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا، لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ھوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔ پوچھنے پر کہا کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ھے۔ مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضو کرے۔ اپنے سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟ (عمر پوچھنا مقصود تھا) کہا یارسول اللہﷺ بڑے تو آپ ھی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ھے۔ مجدد الف ثانی رات کو سوتے ...
اُردو زبان اور لمحہ فکریہ_____________________How did Urdu language bleed? And who is responsible?
- Get link
- X
- Other Apps
اُردُو زُبان کا خون کیسے ہوا ؟ اور ذمہ دار کون ہے ؟ یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔ لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے، مثلا ہیڈ ماسٹر فِیس فیل .پاس وغیرہ گنتی" ابھی "کونٹنگ" میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور "پہاڑے" ابھی " ٹیبل " نہیں کہلائے تھے۔ 60 کی دھائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں "خدا حافظ" کی جگہ " ٹاٹا " سکھایا جاتا تھا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے "ٹاٹا" کہلوایا جاتا۔ وقت آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔ عیسائی مشنری سکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔ سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) سکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری سکول میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو...
چند مشہور فاتحین کا مختصر تعارف ------------------------ Brief introduction of some famous winners
- Get link
- X
- Other Apps
چند مشہور فاتحین کا مختصر تعارف داریوش: پہلا عظیم فاتح تھا۔ داریوش نے 550 قبل از مسیح افغانستان فتح کیا تھا اور وہ ایران سے آیا تھا۔ * سکندر اعظم: دوسرا عظیم فاتح تھا۔ سکندر اعظم نے تقریباً 330 قبل از مسیح افغانستان فتح کیا اور یہاں سے داریوش حکومت کا خاتمہ کیا۔ سکندر اعظم یونان سے آیا تھا۔ سکندر اعظم کی وفات کے بعد اس کے جنرل سیلیکس نے افغانستان پر قبضہ جما لیا۔ وہ بھی اپنے وقت کا ایک عظیم حکمران اور فاتح ثابت ہوا۔ سیلیکس بھی یونانی تھا۔ ڈیوڈوٹس ون: بھی ایک عظیم فاتح تھا جس نے 250 قبل از مسیح سیلیکس کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کیا۔ ڈیوڈوٹس بھی یونان سے آیا تھا۔ ان کی حکومت کا خاتمہ *یوژری قبائل* نے کیا۔ جنہوں نے یونانیون کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کیا۔ یوژری نامی یہ عظیم فاتحین چین سے آئے تھے۔ یہ 130 قبل از مسیح کی بات ہے۔ اس کے بعد دوبارہ ایران سے کچھ فاتحین آئے لیکن وہ سب نئے عظیم فاتح چندر گپت موریا ...
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ٹیچرز ایسوسی ایشن ---------------- All Pakistan Private Schools and Colleges Teachers Association Pakistan
- Get link
- X
- Other Apps
APPSCTA * آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ٹیچرز ایسوسی ایشن* تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کرتے ہیں یہ پرائیویٹ ٹیچرز ، سکولز اور کالجز کا سراسر استحصال ہے۔ بانی: APPSCTA پرائیویٹ ٹیچرز اورنجی تعلیمی اداروں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔ پرائیویٹ ٹیچرز کو دو ماہ سے پہلے ہی تنخواہیں نہیں ملیں۔ اورملک بھر میں وزیر اعظم پاکستان پرائیویٹ سکولز اور کالجز کے ٹیچرز کیلیے’’ زندگی (معاشی) ریلیف پیکیج ‘‘ کا اعلان کریں. چیف آرگنائزر ایڈمینز پینل APPSCTA پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو طویل عرصے تک بند کرنے کی وجہ سے بیشمار پرائیویٹ اساتذہ دو ماہ سے بے روزگار ہو چکے ہیں۔ بانی : APPSCTA کورونا وائرس سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی نقصان کا ازالہ ناممکن ہے۔ فارن ایگزیکٹو میمبر: APPSCTA حکومت پاکستان SOPsجاری کرےاور یکم جون سےملک بھر میں تمام سکولز ھرصورت کھولنے کااعلان کرے۔ ورنہ پرائیویٹ اساتذہ کا سفید پوش طبقہ بھی زندگی کے ہاتھوں تنگ آجائے گا۔ صرف معمولی سی تنخواہوں پر پ...
کرم حاصل کرنا ہے تو درجن 12 کا نہیں 13 کا کرکے دو -------------------- If you want to get karma, then do 13 instead of 12
- Get link
- X
- Other Apps
اشفاق احمد کہتے ہیں جس پہ کرم ہے .. اُس سے کبھی پنگا نہ لینا وہ تو کرم پہ چل رہا ہے .. تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے .. اُڑ جاؤ گے کرم کا فارمولا تو کوئی نہیں ... اُس کرم کی وجہ ڈھونڈو جہاں تک میرا مشاہدہ ہے جب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا .. اُسے عاجز پایا پوری عقل کے باوجود .. بس سیدھا سا بندہ بہت تیزی نہیں دکھائے گا اُلجھائے گا نہیں رستہ دے دے گا بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا سادہ بات کرے گا میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا اخلاص والا .. غلطی کو مان جاتا ہے معذرت کر لیتا ہے .. سرنڈر کردیتا ہے جس پر کرم ہوا ہے ناں .. میں نے اُسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے .. وہ اور کرم کرے گا میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے حق سے زیادہ دیتا ہے اُس کا درجن 13 کا ہوتا ہے .. 12 کا نہیں اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے آپ بھی درجن 1...
پرائیویٹ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کا معاشی قتل ------------------ Economic assassination of private teachers and educational institutions
- Get link
- X
- Other Apps
پرائیویٹ_تعلیمی_اداروں_کےاساتذہ_سےجینےکاحق_بھی_چھین_لو وبا کی صورت حال کے پیش نظر ملکی اور عالمی حالات غیر معمولی ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت متحد حکمت عملی کی ہوتی ہے اور ایسے حالات میں حکومتی فیصلوں پر مکمّل عمل درآمد کرنا چاہیے کیونکہ ریاست ہمیشہ عوام الناس کی بہتری اور بھلائی کے لیے سوچتی ہے۔ لیکن کچھ پہلو پوشیدہ رہنے کی وجہ سے نظرانداز ہوجاتے ہیں جو بڑے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ جب سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا تب سے میں دیکھ رہا ہوں کہ شاید کوئی اس نازک معاملے پر آواز اٹھائے لیکن کسی طبقے کو اس مسئلے کا خیال نا آیا تو آخرکار میں نے قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ شاید میری آواز ہی حکومتی حلقوں تک پنہچ جائے اور اس قوم کے معلم اور تعلیمی ادارے تباہی سے بچ جائیں۔ لاک ڈاؤن میں ہر فرد معاشی بحران کا شکار ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ مجبوری کی چکی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ پِس رہے ہیں۔ *دو ماہ سے بےروزگار اس طبقے کو میٹھی عید سے پہلے ایک اور کڑوی گولی نگلنا پڑ گئی۔* ایک حکومتی فیصلے نے ان کو مزید اڑھائی ماہ کے لیے بےروزگار کردیا۔ پرائیویٹ...
Charity Like this ---------------- (ایک کلو آٹا لےلو)
- Get link
- X
- Other Apps
.ایک کلو آٹا لے لو ا یک شخص نے اپنی کار میں 20 عدد ایک کلو آٹا کے شاپر تیار کر کے وہاں آکر بریک لگائی جہاں ضرورت مند افراد راشن تقسیم کرنے والوں کی تلاش میں کھڑے تھے ۔ آواز دی کہ راشن لے لو ، ساتھ ہی ایک ہجوم پلٹا گاڑی کی جانب، اس شخص نے کہا میرے پاس صرف ایک کلو آٹا کے شاپرہیں، ایک شخص کو ایک شاپر دے سکتا ہوں ، یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے کہ اس ایک کلو سے کیا ہوگا، چند لوگ رکے اور بولے صاحب گھر میں فاقے ہیں ایک کلو آٹا بھی بہت ہے ہمیں یہی دے دیں۔ اس شخص نے ان چند لوگوں کو وہ شاپر تقسیم کر دیئے۔ ایک مزدور وہ شاپر لیے گھر آیا۔ بیوی سے کہا کہ بچوں کو روٹی ہی بنا دے، اس نے آٹے کا شاپر برتن میں خالی کیا ، اب آٹا گوندھنے کیلئے اس عورت نے ہاتھ آٹے میں ڈالا دوسرےہاتھ میں پانی لیا کہ اچانک پانی کا برتن ہاتھ سے گر گیا اور خوشی سے اس عورت کے آنسو نکلنے لگے۔ کیا دیکھتی ہے کہ آٹے میں سے ایک ہزار کے پانچ نوٹ نکلے ۔ ان میاں بیوی نے رب کے حضور دعاؤں کا انبار اس نیک شخص کے حق میں بھیج دیا۔ وہ ایک کلو کا شاپر اصل میں مستحق لوگوں کو ڈھونڈنے کا طریقہ تھا ۔ !خدا ایسے لوگوں ...
Dr.Allama Muhammad Iqbal
- Get link
- X
- Other Apps
علامہ اقبال پیدائش۔۔۔۔۔9 نومبر1877 وفات۔۔۔۔۔21 اپریل 1938 رہائش۔۔۔سیالکوٹ شہریت۔۔۔برطانوی ہند والد۔۔۔شیخ نور محمد والدہ۔۔۔امام بی۔۔۔۔۔ حکمت مشرق ومغرب نے سکھایا ہے مجھے ایک نکتہ کہ غلاموں کے لئے اکسیر دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنیاد پر تعمیر ڈاکٹر علامہ اقبال بیسویں صدی کے ایک مشہور و معرف شاعر، مصنف، سیاستدان، قانون دان، مسلم صوفی سخصیت تھے۔۔۔ وہ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے۔۔۔ اقبال کے بارے میں لکھنا ایسا ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔۔۔ان کی شاعری اور تحریریں سورج کی طرح روشن ہیں۔۔۔۔ ان کی بنیادی وجہ شہرت بلاشبہ ان کی شاعری ہے۔۔۔۔۔ دنیا میں عام طور پر جنگیں ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہیں مگر علامہ اقبل نے انگریزوں اور ہندووں کے مقابلے کے لئے نوجوانوں میں اپنے اشعار سے نئ روح پھونکی۔۔۔اپنے لفظوں سے مسلمانوں میں ایک نیا جزبہ ایمانی جگایا۔۔۔۔ اقبل نے ابتدائ تعلیم سیالکوٹ سے ہی حاصل کی۔۔۔۔۔۔ مشن ہائ اسکول سے میٹرک اور مرے کالج سیلکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔۔۔۔۔۔ ایف اے کے بعد مزید تعلیم کے کئے آپ لاہور آ گئے اور گورنمنٹ کالج سے بی اے اور...
اصطلاحات اردو ادب
- Get link
- X
- Other Apps
: افسانہ افسانہ وہ مختصر کہانی ہے جسے ایک ہی نشست میں پڑھا جاسکے۔ : ناول ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں انوکھا،نرالا اور عجب۔ افسانہ اورناول میں کیا فرق ہے؟ افسانہ مختصر ہوتا ہے۔ افسانہ ایک خیال ایک واقعہ اور ایک احساس کو پیش کرتا ہے۔افسانہ کا ایک ہی پلاٹ ہوتا ہے۔- ۔اس کا انجام کچھ ایسا ہوتا ہے کہ قاری آخر میں کچھ تشنگی سی محسوس کرنے لگتا ہے۔ افسانہ صرف ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکتاہے۔۔ زندگی کی رنگا رنگ اور ہمہ گیر وسعتوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ ایک پلاٹ کے علاوہ کئی ضمنی پلاٹ ہو سکتے ہیں۔ ناول کا انجام بالکل واضح ہوتا ہے اور قاری کا ذہن تکمیل کے احساس سے لبریز ہوتا ہے۔ ۔ایک نشست میں نہیں پڑھا جا سکتا بلکہ اس کے خاتمے کے لیے کئی دن لگ سکتے ہیں۔ رومانویت کیا ہے؟ رومانویت اردو ادب کی بیسیوں اصطلاحات میں سےایک ہے جس کی کوئی مستند اور مکمل تعریف دشوار ہے۔ڈاکٹر سلیم اختر کے بقول ـ’’ ایف۔ایل۔ لوکس نے اپنی معروف تالیف C IDEAL DECLINE AND FALL OF ROMANTIمیں رومانویت کی ۱۱۳۶۹ تعریفیں گنوائی ہیں ‘‘(۱) ی...